اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی سیاسی تجزیہ کار مؤید العلی نے کہا ہے کہ عراق کی خودمختاری اب بھی نامکمل ہے، کیونکہ امریکہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے اور عراق کو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے عراقی خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی خودمختاری صرف امریکی فوجیوں کے انخلا سے مکمل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ عراق سیاسی، معاشی اور سلامتی کے معاملات میں آزادانہ فیصلے کرے اور بیرونی مداخلت، بالخصوص امریکہ کے اثر و رسوخ سے دور رہے۔
مؤید العلی نے مزید کہا کہ اگر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی عراقی حکام ملک کی خودمختاری مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ بدستور نامکمل رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ واضح ہے: امریکہ اب بھی عراق کے مختلف داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور احکامات دیتا ہے۔
عراقی تجزیہ کار نے وضاحت کی کہ امریکہ کی جانب سے عراق کو ایران کے خلاف معاشی جنگ اور اس پر عائد پابندیوں میں شامل کرنے کی کوشش، عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ یہ طرزِ عمل ایسے بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا جن کی بنیاد ممالک کے درمیان توازن اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی ضمانت پر ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ